ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاستی کابینہ میں کے جے جارج کی شمولیت

ریاستی کابینہ میں کے جے جارج کی شمولیت

Sun, 25 Sep 2016 11:26:15    S.O. News Service

بنگلورو24؍ستمبر(ایس او نیوز) سابق وزیر کے جے جارج پیر کے دن دوبارہ ریاستی کابینہ میں شامل کرلئے جائیں گے۔ پیر کی صبح راج بھون میں جارج کی تقریب حلف برداری منعقد ہے۔ ڈی ایس پی گنپتی کی خود کشی کے معاملہ میں ہوئی تحقیقات میں جارج کو کلین چٹ دئے جانے کے بعد وزیراعلیٰ سدرامیا نے انہیں وزارت میں واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔جارج پر یہ الزام تھاکہ بحیثیت وزیر داخلہ انہوں نے ڈی ایس پی گنپتی کو سینئر افسران اے ڈی جی پی ایم این پرساد اور لوک آیوکتہ ڈی آئی جی پرنب موہنتی کے ساتھ مل کر ہراساں کیا تھا۔ اس سلسلہ میں خود کشی سے عین قبل گنپتی نے الیکٹرانک میڈیا کے ایک چینل کودئے گئے انٹرویو میں جارج اور ان دوافسران پر الزامات لگائے تھے۔ یہ معاملہ ریاست بھر میں گرم بحث کا موضوع بنا اور مرکیرہ عدالت میں جارج کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جانے کے سبب وزارت ترقیات بنگلور کے عہدہ سے جارج کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد ہوئی کابینہ توسیع میں وزیراعلیٰ سدرامیا نے بنگلور سے ایک اور وزیر ایم کرشنپا کو وزارت میں شامل کرکے انہیں ہاؤزنگ کا قلمدان سونپا ، لیکن جارج کو کلین چٹ کے انتظار میں وزارت سے دور ہی رکھا گیا۔ بتایا جاتاہے کہ وزارت میں شمولیت کے بعد سدرامیا انہیں وہی ترقیات بنگلور کا قلمدان لوٹا دیں گے، جو پچھلے دنوں تک ان کے پاس تھا۔ گنپتی معاملے میں سی آئی ڈی نے جارج کے ملوث نہ ہونے کے متعلق بی رپورٹ عدالت میں درج کرکے جارج کے خلاف معاملہ کو بند کردیا ہے۔اس کے بعد سدرامیا نے اعلیٰ کمان کی منظوری کے ساتھ جارج کو وزارت میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ایک دو ہفتہ قبل ہی کابینہ میں توسیع ہونی چاہئے تھی، لیکن کاویری مسئلہ پر ماحول گرم ہوجانے کے سبب کابینہ میں توسیع کو موخر کردیاگیا۔ کل ریاستی اسمبلی میں کاویری مسئلے پر متفقہ قرار داد کی منظوری کے بعد ایسا لگتا ہے کہ عارضی طور پر یہ مسئلہ کچھ حد تک سلجھ گیا ہے، اسی لئے وزیراعلیٰ نے پیر کے دن اپنی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔اس دوران گنپتی کے خاندان والوں نے سی آئی ڈی کی تحقیقاتی رپورٹ پر اعتراضات کئے ہیں، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ وزارت میں شمولیت کے بعد بھی جارج کی پریشانیاں کم ہونے والی نہیں ہیں۔ 


Share: